ایک دفعہ کا ذکر ہے، کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا۔ اُس کے بہت سے نوکر، غلام ، لونڈیاں، کنیزیں ، وزیراور کافی طاقت ور فوج تھی۔ اُس کی ایک بہت ہی خوبصورت اور حسین و جمیل بیٹی تھی۔ جو اُس محل کی شہزادی تھی۔ جو بہت ہی مہنگے ، قیمتی اور خوبصورت ریشمی نرم و ملائم لباس زیبِ تن کیا کرتی۔
جو اُس کے حُسن کو چار چاند لگا دیتے گویا کہ جنت سے حور اُتر آئی ہو۔ جس طرح زمانہ قدیم سے چلتا آ رہا ہےکہ اگر کوئی بادشاہ ہے ، جس کےمحل، قلعے اور شان شوکت ہے تو اُس کا کوئی نہ کوئی دشمن ضرور ہوگا۔ اسی طرح اُس بادشاہ کا بھی دشمن تھا۔ جو ایک طاقتور نوجوان تھا۔اُونچا قد، کُشادہ چھاتی اور روب دار جسامت۔ یہی نہیں بلکہ وہ ان خوبیوں کے ساتھ بہت ہی خوبصورت اور حسین بھی تھا۔ جو اپنی رعایا ، وزرا اور فوج کے سامنے ایک دلفریب شہزادہ کے طور پر جانا جاتا تھا۔
ایک دن اُس نوجوان شہزادے نے اپنی فوج اُس بادشاہ کے قلعے کے سامنے لا کھڑی کر دی۔ اور اُس نے اپنا ایک قاصد بادشاہ کی طرف بھیجا۔ قاصد کو خط دیا اور کہا کہ یہ خط تم بادشاہ تک پہنچا دو پھر جو وہ جواب دے اُس کو میرے پاس لے آ۔ قاصد خط لے کر بادشاہ کے پاس پہنچا ۔ بادشاہ نے خط کھولا اور پڑھا جس پر لکھا تھا کہ اے بادشاہ اگر تم اپنی اور اپنی فوج کی سلامتی چاہتے ہو تو قلعہ میرے حوالے کر دو۔ میں تمہاری اور تمہاری فوج کی جان بخشی کر دوں گا۔ اگر انکار کرتے ہو تو پھر جنگ کے لیے تیار ہو جائو۔ خط پڑھنے کے بعد بادشاہ غصہ میں آ گیا ۔ اور اُس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا اور جنگ کی تیاری کرنا شروع کر دی۔
کہتے ہیں کہ وہ قلعہ نا قابلِ تسخیر تھا۔ کافی کوششوں کے باوجود نوجوان شہزادہ قلعہ کو فتح نہ کر سکا۔ ایک دن بادشاہ کی بیٹی قلعے کی چھت پر کھڑی تھی۔ وہ ادھر اُدھر گھوم رہی تھی تو اچانک اُس کی نظر شہزادے پر پڑ گئی۔ جو ایک طاقتور اور خوبصورت نو جوان تھا۔ بس شہزادی کا شہزادے کو دیکھنا تھا ۔ کہ وہ اُسی وقت شہزادے پر فِدا ہو گئی۔ اُس کو ایسا محسوس ہوا کہ اگر یہ شخص مجھے نہ ملا تو میں بلکل نا مکمل ہوں۔ اُس نے چپکے سے ایک تیر کے ساتھ خط لکھ کر شہزادے کی طرف پھینک دیا۔
تیر شہزادے کے قدموں کے قریب زمیں میں آدھا دھنس گیا۔ جب شہزادے نے تیر نکالا تو اُس کے ساتھ ایک خط تھا۔ شہزادے نے خط کو کھولا اور پڑھا جس پر لکھا تھا کہ میں بادشاہ کی بیٹی اور قلعے کی شہزادی ہوں۔ میں آپ کو ایک خفیہ راستہ بتائوں گی ۔ جس کے ذریعے آپ قلعے کے اندر داخل ہو سکتے ہو اور قلعے کوفتح کر سکتے ہو۔ بس میری ایک شرط ہے کہ آپ کو فتح کے بعد مُجھ سے شادی کرنی ہو گی۔
شہزادے نے جب شہزادی کی طرف دیکھا تو ، شہزادہ بھی شہزادی پر فِدا ہو گیا کیونکہ وہ تھی ہی بہت خوبصورت۔ پھر شہزادے نے خط میں لکھ بھیجا ٹھیک ہے میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تم مجھے خفیہ راستہ بتا دو گی تو میں تم سے ضرور شادی کروں گا۔ چنانچہ شہزادی نے خفیہ راستہ بتا دیا جس کے ذریعے سے شہزادے نے اپنی فوج قلعے کے اندر داخل کر دی اور کچھ ہی دیر میں اُس نے قلعے پر قبضہ کر لیا۔ اور بادشاہ کو اُس کی بیٹی کے سامنے قتل کر دیا۔
خیر وعدے کے مطابق شہزادے نے شہزادی سے شادی کر لی۔ کچھ عرصہ گزرا ایک رات شہزادی اپنے بستر پر لیٹی تھی ۔ وہ بار بار کروٹ بدلتی لیکن اُس کو نیند نہ آتی۔ شہزادے نے پوچھا کیا بات ہے نیند کیوں نہیں آ رہی کیا کوئی مسلئہ ہے تو شہزادی نے کہا مجھے لگتا ہے کہ بستر پر کچھ ہے جو میرے جسم کو تکلیف پہنچا رہا ہے۔ تو شہزادے نے جب بستر پر دیکھا تو وہاں قیمتی چادر کے کچھ دھاگے تھے ۔ جو شہزادی کے جسم کو تکلیف پہنچا رہے تھے۔ جس کے ہٹانے کے بعد شہزادی کو کُچھ نہ ہوا۔
شہزادہ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ آخر ان دھاگوں سے جسم کو کیسے تکلیف پہنچ سکتی ہے۔ اُس نے شہزادی سے پوچھا مجھے بتائو کہ تمہارا باپ تجھے کیا کھلاتا تھا۔ شہزادی نے کہا کہ ، میرا باپ مجھے مکھن ، پنیر اور جانوروں کی ہڈیوں کا گودا کِھلاتا تھا۔ جس کی وجہ سے میرا جسم بہت ہی نرم ، نازک اور ملائم ہے۔ شہزادے نے پوچھا کہ تمہارا باپ تم سی اتنی محبت کرتا تھا ۔ شہزادی نے کہا ہاں میرا باپ مجھ سے بہت ہی زیادہ اور گہری محبت کرتا تھا۔
یہ سب سُننے کے بعد شہزادہ بستر پر لیٹ گیا۔ رات بھر سوچتا رہا۔ پھر صبح شہزادے نے دربار میں اپنے خاص وزرا کو بُلوایا اور ان سے کہا کہ میدان میں دو گھوڑے لے آئو۔ پہلے تو وزرا حیران ہوئے کہ صبح سویرے میدان میں دو گھوڑوں کا کیا کام۔ خیر اُنہوں نے بنا کسی سوال کے میدان میں دو گھوڑے کھڑے کر دیئے۔ پھر شہزادے نے کنیزوں کو حکم دیا کہ شہزادی کو بھی میدان میں لایا جائے۔
حکم کی تعمیل کی گئی اور شہزادی کو بھی میدان میں لا گیا۔
حکم دیا کہ شہزادی کی ایک ٹانگ کو ایک گھوڑے کے ساتھ باندھ دو اور دوسری ٹانگ کو دوسرے گھوڑے کے ساتھ باندھ دو۔ اور دونوں گھوڑوں کو مُخالف سمت میں دوڑا دو تیزی کے ساتھ اور ایک ساتھ۔ جب شہزادی نے یہ ہوتے دیکھا اپنے ساتھ تو وہ زاروقطار رونا شروع ہو گئی۔ اور کہنے لگی میرے سر کے تاج میرا کیا قصور ہے ، مجھ سے کیا ایسی غلطی سر زد ہوئی ہے جسکی مجھ اِس قدر عبرتناک سزا دی جا رہی ہے۔ تو اُس وقت شہزادے نے کہا کہ تُمہارا باپ جسکی تم نورِ نظر تھی جسے تم سے انتہا درجہ کی محبت تھی ، جس نے تم کو بہت ہی نازوں کے ساتھ پالا تھا۔ تم نے اُسی کو دھو کہ دیا ۔
اور میرے ہاتھوں قتل کروا دیا۔ شہزادے نے کہا جو اپنے باپ کی نہ بن سکی وہ میری کیا بنے گی۔ اگر کل کو تم نے اپنے باپ کی طرح مجھے بھی دھوکہ دے دیا تو ۔ اس لیے تمہارا قصہ ختم کرنا ضروری ہے ۔ شہزادے نے سپہ سلار کو حکم دیا کہ گھوڑوں کو دوڑا دیا جائے۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور گھوڑوں کو دوڑا دیا گا۔ وہ شہزادی جو نہایت ہی خوبصورت تھی گو یا کہ حُور ہو وہ ہی آج دو حصوں میں پٖڑی تھی۔