Jab Tum Rote Ho Aor Us Shaksh Ko Mangte Ho Jo Na Mumkin Ho To Allah Tala Farmate Hain

Jab Tum Rote Ho Aor Us Shaksh Ko Mangte Ho Jo Na Mumkin Ho To Allah Tala Farmate Hain

کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ رات کے آخری پہر آپ کی آنکھ کھل جائے، آپ جائے نماز پر بیٹھے ہوں، آنسو خودبخود ٹپک رہے ہوں، اور آپ کے لبوں پر صرف ایک ہی نام ہو؟
ایک ایسا شخص… جس کا آپ کی زندگی میں ہونا، عقل کے مطابق ناممکن ہو چکا ہو۔

دنیا کہتی ہے: بھول جاؤ، وہ تمہاری قسمت میں نہیں۔
حالات کہتے ہیں: سارے راستے بند ہو چکے ہیں۔
اور خود تمہارا دل خوف سے کہتا ہے: اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

لیکن یاد رکھو…
جب تم روتے ہوئے اُس چیز کو یا اُس شخص کو مانگتے ہو جو دنیا کی نظر میں ناممکن ہے، تو اللہ تمہارے اُن آنسوؤں کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔

اللہ فرماتا ہے:
کیا تم نہیں جانتے کہ میں وہ رب ہوں جو مُردہ زمین سے زندگی نکال دیتا ہے؟
کیا تم بھول گئے کہ میں نے آگ کو حضرت ابراہیمؑ کے لیے گلزار بنا دیا تھا؟
کیا تمہیں یاد نہیں کہ میں نے حضرت یعقوبؑ کو اُن کی بینائی لوٹا دی، اور حضرت یوسفؑ کو بھی واپس ملا دیا تھا…
جب لوگ کہہ رہے تھے کہ اب وہ کبھی نہیں ملیں گے؟

جب اللہ تمہارے دل میں کسی ایسی چیز کی تڑپ ڈال دے جو بظاہر ناممکن ہو، تو سمجھ لو کہ وہ تمہیں کچھ خاص دینا چاہتا ہے۔
وہ تمہارے صبر کو آزما رہا ہوتا ہے، تاکہ تمہیں تمہارے گمان سے بھی بڑھ کر نواز سکے۔

یاد رکھو، تمہارے آنسو اللہ کے در پر ایک دستک ہیں۔
وہ کُن کا مالک ہے۔
وہ دلوں کو بدلنے والا ہے۔

اگر تمہاری دعا میں سچائی ہے، اور تمہارا اللہ پر پورا توکل ہے، تو وہ تمہارے لیے وہاں سے راستے نکال دے گا…
جہاں تک تمہارا وہم و گمان بھی نہیں پہنچ سکتا۔

وہ شخص تمہیں ناممکن لگ سکتا ہے،
لیکن اللہ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں۔

بس رو کر، ٹوٹ کر، اپنے حالِ دل اسے سنا دو۔
کیونکہ جب بندہ ٹوٹ کر اللہ کے سامنے گرتا ہے،
تو اللہ اسے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط بنا کر اٹھاتا ہے۔

تو پھر نااُمید کیوں ہوتے ہو؟
جب اللہ خود قرآن میں فرماتا ہے:
“تم مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔”

آپ اپنی ہر دعا، دل کھول کر اللہ سے مانگ سکتے ہیں۔
اللہ نے کسی پر کوئی مہر نہیں لگائی کہ تم یہ دعا نہیں مانگ سکتے۔

دعا، اللہ اور بندے کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہے۔
اس لیے نااُمید نہ ہوں۔

ان شاء اللہ، اللہ آپ کو بہتر سے بھی بہترین عطا کرے گا۔
اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔

اللہ حافظ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *